نئی دہلی میں BRICS سربراہی اجلاس: مودی۔شی ملاقات اور عالمی سیاست میں نئی صف بندی
نئی دہلی میں جاری BRICS سربراہی اجلاس نے عالمی سیاست، معیشت اور بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کو ایک بار پھر مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔ بھارت کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں عالمی جنوب کے ممالک نے جنگوں، تجارتی کشیدگی، یکطرفہ پابندیوں اور عالمی اداروں میں اصلاحات جیسے اہم معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی۔
مودی۔شی ملاقات نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی
اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد دونوں ممالک تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سرحدی علاقوں میں امن کو تعلقات کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت قرار دیا اور تجارت، کاروباری روابط، رسد کی زنجیروں، مارکیٹ تک رسائی اور عوامی روابط کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

نئی دہلی اعلامیہ: جنگ اور یکطرفہ پابندیوں پر تشویش
BRICS رہنماؤں نے نیو دہلی اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زیادہ سے زیادہ تحمل پر زور دیا۔ اعلامیے میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور خودمختاری کے احترام کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں پر بھی اعتراض کیا۔
تجزیہ: بھارت کے لیے یہ اجلاس کیوں اہم ہے؟
اس اجلاس کی سب سے اہم سیاسی جہت بھارت کی متوازن سفارت کاری ہے۔ نئی دہلی ایک طرف امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف روس، چین اور عالمی جنوب کے ساتھ اقتصادی و سفارتی روابط کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔ مودی۔شی ملاقات اسی توازن کی نمایاں مثال ہے۔ تاہم سرحدی تنازع، تجارتی عدم توازن اور باہمی اعتماد کی کمی جیسے مسائل کے باعث اسے مکمل بحالی کے بجائے محتاط پیش رفت سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
BRICS کے لیے بھی یہ اجلاس ایک امتحان ہے۔ مختلف رکن ممالک کے سیاسی مفادات ایک جیسے نہیں، لیکن عالمی تجارت، مالیاتی نظام، توانائی، امن و سلامتی اور عالمی اداروں میں زیادہ نمائندگی کے مطالبات نے انہیں مشترکہ پلیٹ فارم پر تعاون کی نئی ضرورت فراہم کی ہے۔ بھارت نے اجلاس کے ذریعے BRICS کو کسی ایک ملک یا مغرب مخالف اتحاد کے بجائے عالمی جنوب کے لیے ایک وسیع سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
AB NEWS URDU کا تجزیہ
نئی دہلی BRICS اجلاس کا اصل اثر صرف اعلامیے تک محدود نہیں ہوگا۔ اگر بھارت اور چین سرحدی امن کو برقرار رکھتے ہوئے تجارت اور سفارتی روابط میں عملی پیش رفت کرتے ہیں تو ایشیا میں ایک اہم نئی معاشی و سفارتی فضا بن سکتی ہے۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور عالمی تجارت کے بحران BRICS کے لیے مشترکہ موقف کو عملی پالیسی میں بدلنے کا بڑا امتحان رہیں گے۔




Comments