top of page

مشرقِ وسطیٰ میں بحران سنگین، سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن بند؛ عالمی تیل سپلائی پر خطرات بڑھ گئے

2 days ago
4 min read

ریاض/صنعا/عالمی منڈی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ایک مرتبہ پھر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد اس کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی ہے، جبکہ یمن کے حوثی جنگجوؤں کی بحیرۂ احمر کے اہم علاقوں میں پیش قدمی نے تیل کی عالمی ترسیل کے متبادل راستوں کے بارے میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ تازہ صورتحال نے خام تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور عالمی افراطِ زر کے خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 10 ستمبر کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد حفاظتی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کردی گئی۔ سعودی حکام نے بتایا کہ حملوں میں بعض افراد زخمی ہوئے اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور ہنگامی و تکنیکی ٹیمیں پائپ لائن کی حفاظت اور مرمت کے اقدامات میں مصروف ہیں۔

یہ پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرۂ احمر کی جانب واقع ینبع کے راستے سے جوڑتی ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث خلیجی تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ صورتحال میں یہ راستہ سعودی عرب کے لیے ایک اہم متبادل برآمدی راہداری سمجھا جا رہا تھا۔

تازہ رپورٹس کے مطابق پائپ لائن کے متاثرہ حصوں کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق پائپ لائن کی بندش سے روزانہ کئی ملین بیرل خام تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر سعودی عرب کی بندرگاہوں پر موجود ذخائر ختم ہونے سے پہلے پائپ لائن بحال نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

اسی دوران یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں گریٹر ہنیش اور لیسر ہنیش سمیت اہم جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ علاقے باب المندب کے قریب واقع ہیں، جو عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں پر دباؤ بڑھنے سے عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے خطرات اور اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی توانائی منڈی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز میں کم ہوتی بحری آمدورفت اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث دباؤ میں ہے۔ 14 ستمبر کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچنے کی رپورٹس سامنے آئیں۔ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا تو اس کے اثرات ایندھن، بجلی، نقل و حمل، خوراک اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران صرف تیل کی قیمت کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک وسیع خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر تیل اور گیس کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو درآمدی ممالک کے لیے توانائی کے اخراجات بڑھیں گے، جس سے افراطِ زر دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے اور مرکزی بینکوں پر شرحِ سود کے حوالے سے اضافی دباؤ آسکتا ہے۔

سعودی عرب نے حملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرون عراق کی سمت سے آئے تھے، جبکہ عراقی حکام نے تحقیقات شروع کرکے مبینہ ڈرون لانچنگ کے لیے استعمال ہونے والے ایک پلیٹ فارم کو قبضے میں لینے کی اطلاع دی ہے۔ سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے عراقی حکومت کو صورتحال سے نمٹنے کا موقع دینے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ریاض نے اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔

ادھر امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کی صورتحال میں فوری بہتری کے آثار محدود دکھائی دیتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے ہوئے تو عالمی منڈی میں غیر یقینی مزید بڑھ سکتی ہے۔

صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے بڑے درآمدی ممالک، خصوصاً ایشیا اور یورپ، خلیجی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ سمندری راستوں میں رکاوٹ کی صورت میں جہازوں کو طویل متبادل راستوں سے گزرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفر کا وقت، بیمہ اور مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے۔ اس کا براہِ راست اثر عالمی تجارت اور صارفین تک پہنچنے والی اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

AB NEWS URDU کے تجزیے کے مطابق موجودہ بحران میں اگلے چند دن انتہائی اہم ہیں۔ سعودی پائپ لائن کی بحالی کی رفتار، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمی، باب المندب کے قریب سکیورٹی صورتحال، حوثیوں کی مزید کارروائیاں اور سفارتی رابطوں کا نتیجہ عالمی توانائی منڈی کی سمت متعین کرنے والے بڑے عوامل ہوں گے۔

اہم وضاحت: اس خبر میں مختلف بین الاقوامی ذرائع اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر تازہ صورتحال کو یکجا کیا گیا ہے۔ حملوں کی ذمہ داری اور بعض فوجی دعووں سے متعلق معلومات میں فریقین کے بیانات مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے حتمی ذمہ داری سے متعلق دعووں کو سرکاری تحقیقات مکمل ہونے تک احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

Comments


Contact Me

Tel: +91-851 988 2544

info@abnewsurdu.com

  • Whatsapp
  • Instagram
  • YouTube

© 2023 by Phil Steer . Proudly created with Wix.com

Thanks for submitting!

bottom of page